صبر کیا ہے؟


 دل کو گریہ و زاری اور زبان کو شکوہ سے روکنے کا نام صبر ہے۔اطاعتِ الٰہی،  معصیت الٰہی امتحان الٰہی صبر کی اصناف ہیں۔صبر باللّٰہ ،صبر للّٰہ اور صبر مع اللّٰہ اس کی تین حالتیں ہیں۔صبر باللّٰہ صرف اللّٰہ کے لئے،صبر للّٰہ صرف تقرب الٰہی اور محبتِ الٰہی کے حصول کے لئے ہو۔ صبر مع اللّٰہ اپنے نفس کو اوامر الٰہی اور محارم الٰہی کا مطیع بنانے کے لئ ہو۔صبر تو کڑوی دوائی پینے کا نام ہے۔جب تجھ پر کوئی مصیبت نازل ہو تو اچھا ہے کہ صبر کر، کیونکہ رب کو تیرا علم ہے،لیکن اگر تو اُس کا شکوہ ابنِ آدم سے کرے گا، تب رحیم کا شکوہ اُس سے کرتا ہے جو رحم نہیں کرتا۔ حضرت محمدﷺ نے احکامِ الٰہی کی تبلیغ ،اہلِ ایمان کی تعلیم ،اہلِ عالم کی تدبیر اور اعلائے کلمتہ الحق کی تدبیر میں کس قدر مصائب و نوائب اور ہموم و غموم  کی برداشت صبر کے ساتھ فرمائی تھی۔یہ حضورﷺ کا حوصلہ اور دل تھا کہ صبر کیا۔سورہ یوسف میں ارشاد ربانی ہے۔حضرت یعقوبؑ فرماتے ہیں کہ میں اپنی پریشانی اور اندوہ قلبی کی شکایت اللّٰہ سے کرتا ہوں۔اب یہ مسئلہ خوب یاد رکھو کہ اللّٰہ تعالٰی سے اپنی حالت کا عرض کرنا بے صبری نہیں ہے۔ اللّٰہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(سورہ آلِ عمران) ۔بے شک اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(سورہ البقرہ)۔اللّٰہ تعالٰی سورہ نحل میں فرماتے ہیں کہ ہم صبر کرنے والوں کو ان کی جزا بہترین طریق سے دیں گے۔قرآن پاک میں (90) مقامات پر صبر کا ذکر فرمایا گیا ہے۔اللّٰہ تعالٰی ہمیں صبر کی توفیق عطا فرمائے۔(امین) پرویزآصف قریشی

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی