لباس انسان کو گرمی سے بچاتا ہے۔لباس انسان کے حسن و جمال کو ترقی دیتا ہے۔ لباس پہننے والے کے عیوب چھپاتا ہے۔ لباس پہننے والے کی تہذیب و تمیز کا اندازہ ہوتا ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے کہ بیویاں اپنے شوہروں کے لئے اور شوہر اپنی بیویوں کے لئے لباس ہیں۔زن وشوہر بھی لباس کی طرح ہوں۔جس طرح لباس گرم وسرد سے بچاتا ہے۔اس طرح زن و شوہر بھی کے باہمی تعلقات ہونے چاہییں۔ان کا حسن وجمال باہمی الفت سے ترقی کرے۔ عورت کو دیکھ کر اس کے شوہر کی تہذیب اور شوہر کو دیکھ کر عورت کی تہذیب کا اندازہ کیا جا سکے ۔وہ ایک دوسرے کے راز دار ہوں۔
سورہ روم میں ارشادِربانی ہے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔عورتوں کے شوہروں پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے شوہروں کے عورتوں پر ہیں اور مردوں کو ان پر درجہ ہے۔مرد عورتوں پر نگران ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box