آئینہ سکندری۔
آئینہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔فراعنہ مصر سے کئی ہزار سال پہلے کے آئنیے نکلے ہیں۔زمانہ قدیم سے دنیا کی مختلف اقوام میں آئینوں کا استعمال عام تھا۔یہ بات بھی مشہور ہے کہ سکندرِاعظم نے درباری حکماء سے ایک ایسی چیز بنانے کا کہا جس میں انسان اپنا عکس اور دیگر اشیاء کا عکس دیکھ سکے۔تو ایک لوہار نے فولاد کو پگھلا کر اس قدر جلا دی کہ اس میں ہر چیز کا عکس نظر آنے لگا۔ سکندر ِاعظم کے دور میں سب سے پہلے لمبا آئینہ بنایا گیا۔اس میں تصویر لمبوتری،ٍچوکھونٹے آئینے میں تصویر چوکھونٹی،جب گول آئینہ بنایا گیا تو تصویر بالکل ٹھیک دکھائی دی اور ہر چیز کا عکس ہوبہو نظر آنے لگا۔ اسے آئینہ سکندری کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں آئینے کانسی کو جلا دے کر بنائے جاتے تھے۔کانچ یا شیشے کے آئینے کی پشت پر ملغم مل دہا جاتا تھا۔ 1840ء میں شیشے میں چاندی ملا کر آئینہ بنایا گیا ۔ اس سے پہلے سلور نائٹریٹ کے امونیاتی محلول سے شیشے کی سطح پر چاندی کا آئینہ بنایا جا چکا تھا۔دورِ جدید میں آئینے شیشے کے علاوہ کوارٹز سے بنائے جاتے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box