روزہ اسلام کاچوتھا رکن



 روزہ رکھنا اسلام کا چوتھا رکن ہےروزے دو ہجری میں فرض ہوئے۔ سال میں ایک مہینے کے روزے رکھنا فرض ہے۔روزے سے انسان کو تقویٰ کی دولت نصیب ہوتی ہے۔روزہ رکھنے سے صحت ٹھیک ہو جاتی ہے۔اس سے امراء غربا کی حالت سے عملی طور پر باخبر ہو جاتے ہیں۔شکم سیر اور فاقہ مست ایک سطح پر کھڑا ہو کر مساوات کا اصول اپناتے ہیں۔ قوتِ ملکیہ کو قوی اور قوتِ حیوانیہ  کو کم زور بناتے ہیں۔قرآن پاک سورہ بقرہ آیت نمبر 183 میں اللّٰہ تعالٰی نےفرمایا ۔اے ایمان والو  تم پر روزے فرض کیے گئے جسطرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے۔تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔تقویٰ کی مثالیں۔خواہ موسم کتنا سخت ہو۔پیاس اور بھوک لگی ہو اور انسان تنہا ہو مگر کچھ کھاتا پیتا نہیں۔دل پسند بیوی موجود ہو۔محبت کے جذبات نے دونوں کو شیدا بنا رکھا ہو لیکن روزہ دار اس سے پہلوتی اختیار کرتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ جب ایک ایماندار خدا کے حکم کی وجہ سے جائز حلال ،پاکیزہ  خواہشات چھوڑ دینے کی عادت اپنا لیتا ہے تو پھر ناجائز خواہشات سے بھی رک جاتا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ خدا کے حکم کی عزت اور عظمت اس کےدل میں اس قدر  ہوتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آ سکتا۔یہی وہ اخلاقی برتری جو روزہ دار کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔رمضان کا اسلام میں فرض ہونا اور رکنِ اسلام ہونا ثابت کرتا ہے کہ اسلام کس قدر ایمانی اور ملکوتی طاقتوں کو بڑھانے والا اور کس قدر جسمانی و شہوانی خیلات کو ملیا میٹ کرنے والا ہے اللہ تعالٰی ہمیں یہ فرض پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی