چاند
چاند یا ماه ہماری زمین کا ایک سیارچہ ہے۔ زمین سے کوئی دو لاکھ چالیس ہزار میل دور ہے۔ اس کا قطر 2163 میل ہے۔ چاند کے متعلق ابتدائی تحقیقات گلیلیو نے 1609ء میں کیں۔ اس نے بتایا کہ چاند ہماری زمین کی طرح ایک کرہ ہے۔ شمسی کے بننے کے 6 کروڑ سال کے دوران ہی چاند نے جنم لے لیا تھا اور اس کی عمر 46 لاکھ سال کے قریب ہے۔ نظام شمسی کے بننے کے 6 کروڑ سال کے دوران ہی چاند نے جنم لے لیا تھا اور اس کی عمر 46 لاکھ سال کے قریب ہے۔ ہر رات تاریک آسمان میں مدھم سی روشنی بکھیرنے والا چاند سائنسدانوں کے لیے ہمیشہ سے تجسس کا باعث رہا ہے۔
چاند زمین کے اردگرد 27.3 دن میں چکر لگاتا ہے۔ اس کے راستے کو چاند کا مدار۔ کہا جاتا ہے۔ چاند زمین کے مرکز سے اوسطاً 385000 کلومیٹر کے فاصلے پر 1.023 کلومیٹر فی سیکنڈ کی اوسط رفتار سے چکر لگاتا ہے۔ زمین کی کشش نے چاند کی محوری گردش کی رفتار کم کر کے اسے اس طرح محدود کر دیا ہے کہ اس کی محوری گردش کا دورانیہ زمین کے گرد مدار میں ایک چکر پورا کرنے کے برابر ہو چکی ہے۔چاند کا دن ہمارے پندرہ دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ زمین کے گرد 29 یا 30 دن میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔
چاند کا مدار زمین کے اردگرد بڑھ رہا ہے یعنی اوسط فاصلہ زمین سے بڑھ رہا ہے۔ قمری اور اسلامی مہینے اسی کے طلوع و غروب سے مرتب ہوتے ہیں۔ چاند ہمیں رات کو صرف تھوڑی روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی کشش سےسمندر میں مد و جزر بھی پیدا ہوتا ہے۔کم و بیش 385 ہزار کلومیٹر طویل ارتھ مون کا فاصلہ۔ سورج سے چاند کی روشنی کی روشنی زمین کوپہنچنے میں 1.3 سیکنڈ کا وقت دیتی ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق چاند کی حرارت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس باعث اس کی سطح ایسے سکڑتی جا رہی ہے جیسے انگور خشک ہونے پر کشمِش کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چاند کی اندرونی حصہ بھی سکڑنے کے عمل میں ہے۔ گزشتہ لاکھوں برسوں میں چاند کی مجموعی حجم میں پچاس میٹر کی کمی ہو چکی ہے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box