اہرام مصر ،جنھیں دنیا کا ساتواں عجوبہ بھی شمار کیا جاتا ہے، صدیوں سے عام انسانوں کے ساتھ ساتھ سائنس دانوں کے لیے بھی معمّا بنے ہوئے ہیں۔یہ مخروطی شکل کے مقبرے ہیں کہ جنہیں اہرام مصر کہا جاتا ہے. ان تعمیرات کا شمار ، انسان کی قدیم ترین تعمیرات میں ہوتا ہے .سبھی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فراعین مصر کی قبریں ہیں . جن میں شاہی خاندان کے لوگ دفن ہیں .دنیا کے سات عجوبوں میں سے یہ واحد ہیں جو ابھی تک بہترین حالت میں ہیں . ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق ، مصر میں دریافت کئے گئے اہرام کی کل تعداد 138 ہے جنھیں آج سے ساڑھے چار ہزار سال قبل تعمیر کیا گیامخصوص شکل کے مخروطی مقابر کو اہرام کہا جاتا ہے اس کی واحد اہرم بمعنی پرانی عمارت ہے اہرام مصر کا شمار انسان کی بنائی ہوئی عظیم ترین تعمیرات میں ہوتا ہے۔ یہ اہرام زمانہء قدیم کی مصری تہذیب کے سب سے پرشکوہ اور لافانی یادگار ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ ان اہرام کی تعمیر کا مقصد فراعین مصر اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کا مدفن تھا۔ اہرام مصر میں غزہ کا عظیم اہرام دنیا کے سات عجائبات میں سے وہ واحد عجوبہ ہے جو ابھی تک اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔
پوری دنیا میں اس قدر پراسرار اور تعجب خیز کوئی عمارت نہ ہوگی جو ایک ویران میدان میں کھڑی پوری دنیا کے سائنسدانوں اور اہل علم کو اپنے وجود سے حیرت زدہ کررہی ہو۔جو پتھر اہرام کی تعمیر میں لگائے گئے ہیں ان کا وزن 2 سے 15 ٹن تک ہے۔ اہرام میں تقریباً 30 لاکھ پتھر لگائے گئے ہیں۔مصری ہسٹری کے مطابق ، یہ پتھر 800 کلومیٹر دور سے لائے گئے اور ایک لمبی ترین نہر کھود کر ، اور پھر جانوروں کے چمڑوں میں ھوا بھر کر ،انکو پانی کے اوپر تیرا کر ،غزہ تک لایا گیا ۔ اس بات میں 800 کلومیٹر کا فاصلہ زیر غور رکھیں اور ماضی کی مشکلات کو بھی ذہن میں رکھیں تو یہ ایک ناممکن سا کام تھا۔ن بلاکس میں سے اکثریت کا وزن ، 25 سے 80 ٹن کے قریب ہے۔ انکی تعمیر اتنی بہترین کی گئی ہے کہ آج کی سائنس بھی ایسا یادگار اہرام نہیں بنا سکتی۔اہراموں کی تعمیر کے لیے پتھر تراش خراش کر دوردراز مقامات سے لائے جاتے تھے۔اہراموں کی تعمیر کے لیے مصریوں کو انتہائی وزنی پتھر صحرا میں سے لے جانے پڑتے تھے۔ ہرام بنانے والے مزدوروں کے دیہات میں بطخوں، بھیڑوں، خنزیروں اور گائے کی باقیات سے پتہ چلتا ہے کہ اہرام بنانے والے گوشت، روٹی اور بیئر کا بھرپور انداز میں استعمال کرتے تھے۔قدیم مصریوں نے دریائے نیل میں نہریں بنائی تھیں جس کی وجہ سے اہرام کے مقام کے قریب پتھر کے بڑے ٹکڑے تھے۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box