موت ایک اٹل حقیقت ہے


 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
     موت ہر کسی کو آنے والی ہے اس دنیا سے سب کو جانا ہے۔ کس کو کس طریقہ سے کب موت آنے والی یہ کوئی بھی نہیں جانتا، ہر کسی کے ذھن میں یہی سوال ہے کہ مرنے کے بعد وہ جنت میں جائیگا یا جھنم میں موت، زندگی سے اور زندگی موت سے برآمد ہوسکتی ہے۔ مزید یہ کہ موت زندگی میں بدل سکتی ہے اور وہی زندگی پھر موت میں بدل سکتی ہے، اور وہی موت پھر زندگی میں بدل سکتی ہے اور زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھی باقی رہ سکتی ہے۔ سورہ بقرہ کی آیات نمبر اٹھائیس کا ترجمہ ہے کہ
ترجمہ:  ”تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے .” خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شے ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتیٰ کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔
  موت نہ نیک صالح لوگوں پر رحم کھاتی ہے اور نہ ظالموں کو بخشتی ہے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو بھی موت اپنے گلے لگا لیتی ہے اور گھر بیٹھنے والوں کو بھی موت نہیں چھوڑتی۔ اخروی ابدی زندگی کو دنیاوی فانی زندگی پر ترجیح دینے والے بھی موت کی آغوش میں سوجاتے ہیں، اور دنیا کے دیوانوں کو بھی موت اپنا لقمہ بنالیتی ہے۔
  فراخی کو زندگی: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بھی موت کو تنگی میں یاد کیا اس نے اس پر زندگی فراخ کردی

 یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہےکہ اسے موت نہ آئے لیکن ہاں انسان کے ہاتھ میں یہ ضرور ہے کہ اس کو کونسی موت آئے، اب انسان کو جیسی موت چاہئے اس طریقہ سے اس دنیا میں اپنے اعمال اور کردار کو پیش کرے جو جس طرح سے اس دنیا میں زندگی گذارے گا اسے موت کے بعد ویسی ہی زندگی ملنی والی ہے۔
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولُ ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’لذتوں کو ختم کرنی والی (موت) کو زیادہ یاد کیا کرو۔
  موت کو یاد رکھنے والے کی خواہشات کم ہوتیں ہیں اسی کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو۔ جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔بعض بزرگوں ے فرمایا : جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے وہ تین باتوں کے ذریعے عزت پاتا ہے۔ ۱۔ توبہ کی جلد توفیق(۲) دل کی قناعت (۳) عبادت میں چشی۔

تبصرہ کریں

please do not any spam link in the comments box

جدید تر اس سے پرانی