ڈاکٹر عبد القدیر خان (پیدائش:1 اپریل 1936ء- وفات:10 اکتوبر 2021ء) پاکستانی سائسندان اور پاکستانی ایٹم بم کے خالق تھے۔آج انتقال کر جانے والے پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تدفین اسلام آباد ایچ ایٹ کے قبرستان میں کر دی گئی جب کہ ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔10 اکتوبر 2021ء کی صبح 7 بج کر 4 منٹ پر وہ پاکستانی قوم کو سوگوار چھوڑ کر. دار فانی کو الوداع کہہ گئے ۔
ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے غوری پٹھان گھرانے میں یکم اپریل 1936ء کو پیدا ہوئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہلخانہ 1947 میں آزادی کے بعد ہجرت کر کے مستقل طور پر پاکستان میں مقیم ہو گئے۔ انہوں نے 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جرمنی کے شہر برلن چلے گئے۔
عبد القدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ عبد القدیر خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئری کی اسناد حاصل کیں،تعلیم حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر "انجینئری ریسرچ لیبارٹریز" کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعد ازاں اس ادارے کا نام صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کرکے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے نومبر 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ڈاکٹر اے کیو خان کے انسٹی ٹیوٹ نے ان کی سربراہی میں نا صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران میں ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔
اگست 1996ء میں ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی ان کو عطا کیا گیا۔1996 میں جامعہ کراچی نے عبدالقدیر کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند عطا کی۔
پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet نامی ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box