خالق کائنات مالک ارض و سماء اللہ ربّ العزت کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری کائنات کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا ہے۔الانبیاء 21:107)
اے رسول ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ (الانبیاء 21:107) اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کیلئے رحمت۔‘‘
خالق مطلق کا یہ اسلوبِ خطاب بلاغت کی اصطلاح میں حصری بیان کہلاتاہے، جو مضمونِ خطاب اور اس میں بیان کردہ عنوان کے بیان کیلئے اپنی خصوصی بلاغی قوت بیان کا حامل ہوتاہے ۔
قرآن کریم میں مہبط قرآن کے نام متکلم قرآن کے اس حصری یا قصری خطاب کے مخاطب،یقینا فخر کائنات، سید المعصومین ،اشرف الرسل ،حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ،جن کا مقام ِ عالی ’’بعد از خدا توہی قصہ مختصر ‘‘ہے ۔
متعدد آیات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مھربانی دلسوزی اور بے پناہ عنایات کا ذکر کیا گيا ہے اور آپ کی حیات طیبہ کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے۔اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ انسان کے لئے کس طرح رحمت بنی تو اس بیان کے لئے ایک تقریر کیا، سینکڑوں تقریریں اور سینکڑوں کتابیں بھی ناکافی ہیں۔ انسان رحمت کے ان پہلوؤں کا شمار نہیں کر سکتا۔ اس لئے میں آپ کے سامنے اس رحمت کے صرف ایک پہلو کے بیان پر اکتفا کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انسانی سماج کے لئے وہ اصول پیش کئے ہیں جن کی بنیاد پر انسانوں کی ایک برادری بن سکتی ہے اور انہی اصولوں پر ایک عالمی حکومت بھی معرض وجود میں آ سکتی ہے اور انسانوں کے درمیان وہ تقسیم بھی ختم ہو سکتی ہے جو ہمیشہ سے ظلم کا باعث بنی رہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمام انسان اصل میں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اور اس حیثیت سے بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان کوئی فرق رنگ، نسل اور وطن کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔اے محمد! ہم نے آپ کو اپنی مخلوقات میں جس کی طرف مبعوث کیا ہے آپ میری اس مخلوق کیلئے رحمت ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی شان اور سنت اور اس کی رحمت وحکمت کاتقاضا یہ نہیں کہ وہ ذات عالی انہیں عذاب دیں اور اے رسول اعظم !آپ اُن کے درمیان موجود ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو ہم نے رحمت للعالمین بنایا ہے ۔آپ ان کیلئے نعمت ہیں نقمت اور عذاب نہیں ۔
آج ہمیں بھی ضرورت ہے کہ ہم نبیؐ کی سُنتیں اپنائیں۔ آپؐ کیساتھ عقیدت کا تقاضا ہے کہ اپنے اندر آپؐ جیسے اخلاق وخصائل پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ آپؐ کی زندگی کے تمام پہلوئوں کو جانیں، سمجھیں اوران میں آپؐ نے جو رویہ اختیار کیا، اسے اپنائیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت پیدا فرمائے ، اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت و کردا رکو اپنا کر دین اسلام کی تبلیغ و ترویج اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے،آمین۔
ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box