آب حیات
نہایت گھنے گھٹا ٹوپ اندھیرے والے جنگل میں پانی کا ایک چشمہ جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس چشمے کا پانی پینے سے آدمی امر ہو جاتا ہے اور اسے کبھی موت نہیں آتی۔اس چشمے کے کئی نام مشہور ہیں مثلا" آب حیوان ، آب بقا،آب خضر،چشمہ حیوان وغیرہ۔یہ خیالی چشمہ ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہے۔ قرآن و حدیث میں بھی اس کا کوئی تذکرہ نہ ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام نے یہ پانی پیا ہوا ہے۔ا اس حیات بخش پانی کے پینے سے امر ہو گئے۔یہ عام انسانوں کی دسترس سے باہر ہے۔جمہور علما و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں۔اور یہ کہ انہوں نے اس چشمہ حیات میں غسل فرمایا اور ابدی زندگی حاصل کی۔جبکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اس کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔غالب نے اپنے اس شعر میں بطور تلمیح اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور اردو شاعری میں یہ تلمیح بہت استعمال ہوئی ہے۔ کیا کیا خضر نے سکندر سے۔اب کسے راہنما کرے کوئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں
please do not any spam link in the comments box